Urdu Digest my love-قومی زبان اردو اور ہمارا رویہ

میں نے جب کچھ کمانا شروع کیا تھا تو تعلیمی قرضوں سے نجات کے بعد ، تسکین ذوق کی خاطر اردو ڈائجسٹ کا سالانہ خریدار بن گیا ۔ اردو ڈائجسٹ (ماہنامہ اردو) سے میری دل لگی اس وقت ہوئی جب میرے ہائی سکول کے استاد نے مجھے اس کا ایک downloadشمارہ پڑھنے کو دیا۔ میں بچپن سے ہی نونہال اور تعلیم و تربیت کا دلدادہ تھا۔ اردو ڈائجسٹ مجھے بہت ہی پسند آیا۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو ڈائجسٹ کی حیثیت اردو قاری کے لیئے وہی ہے جو کہ ریڈر کی انگریزی پڑھنے والوں کے لیے ہے۔

اس بار کرونا کی وبا کے باعث ماہ اپریل کا شمارہ کچھ دیر سے ملا، مگر میرا یہ دوست جب ملا تو بہت خوشی ہوئی۔ سر ورق سبز رنگ کو نمایاں کرتا وزیر اعظم کی تصویر لیئے بھلا لگا۔

طیب اعجاز قریشی صاحب نے آزادئ صحافت اس شعبہ سے وابستہ افراد کے مسائل کا جامع انداز میں احاطہ کیا۔  ہندو مسلم فسادات پر نظر اور دو قومی نظریہ کو تقویت دیتی تحریریں قاری کو ماضی سے روشناس کراتی ہیں۔

صالحہ محبوب کی معاشرتی کہانی ’’ حق حقدار کو ملا ‘‘   بہت سبق آموز اور معاشرتی برائیوں پر ضرب  کاری ہے۔ نعمت اللہ خان کی کی داستان حیات ہمیں اپنے سورماوں سے ملاتی ہے۔ اور ایک پیغام ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں۔

خوبصورت پرندے ہدہد پر مضمون بہت اچھا تھا۔  صاحبزادہ شیر زمان نے شاعری پر جو اشعار کا بہترین گلدستہ حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا کیا کہنے’’ ہیروں کا محافظ‘‘ بھی بہترین کہانی تھی۔ اور بھر تہذیب و تمدن کی اہمیت کو اجاگر کرتی خرم سہیل کی تحریرڈراما ریٹنگ کی دلدل میں  بہت ہی زبردست تھی۔

المختصر مزہ آ گیا ۔  یہ سلسلہ جاری رہے اور اللہ اس میں مزید برکت دے۔ میری رائے ہے کہ اردو پڑھنے والے کو لازمی پڑھنا    چاہیے۔شمارہ اپریل ویب سائیٹ پر بھی پڑھا جا سکتا ہے ۔ ڈرامہ ارتغرل کے بارے میں میری رائے

 

Diriliş: Ertuğrul ڈرامہ ارتغرل غازی کے کردار اور ہم سب

ارتغل غازی ترکی کا مشہور ڈرامہ ہے۔ جو کہ آج کل پاکستان میں بہت مقبول ہوا ہے۔ اس پر بہت سے لوگ جہاں سوالات بھی اُٹھا رہے ہیں، وہاں بہت سے نوجوان اس نئی طرز کی پرانی کہانی سے بہت متاٗثر بھی نظر آ رہے ہیں۔ ہر  نوجوان خود کو ارتغرل ertugalسمجھتا ہے۔ ٹی وی کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ وہ آپ کو خیالی دنیا میں لے جاتا ہے۔ خیر بات کی طرف آتے ہیں۔

اگر کہانی متاٗثر کن ہو تو لوگ کرداروں میں خود کو تلاش کرنے لگتے ہیں، یہاں بھی ایسا ہی ہوا، جوان لڑکیاں خود کو حلیمہ سلطان سے کم نہیں سمجھتیں۔ اور تو اور والدہ کے لفظ کو بھی پذیرائی ملی ہے۔ تفریح کی تفریح اور تاریخ سے شناسائی بھی۔

یہ سب بجا ہے لیکن! میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ ارتغرل قبیلے کے سردار کا بیٹا ہے، بہادر ہے اور نڈر جنگجو بھی۔ اب اگر یہ خوبیاں آپ میں ہیں تو درست۔ مگر میں تو جوانوں سے درخواست کروں گا کہ مجھے سلطان شاہ کا دوست دبیر بھائی بننے میں بھی فخر ہوگا۔ ارے بھائی ! کہانی میں اپنا کردار پہچانو ، نہیں تو اپنی کہانی لکھو تاکہ تم اس کا مرکزی کردار ٹھرو۔

میں تو پسند کروں گا کہ ارتغرل کا وفادار دوست بن جاوں۔ دیکھو کسی کو تو ابن العربی کا کردار بھی نبھانا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر ہم طبیب کا کردار بہترین نبھا سکتے ہیں تو کیوں کسی کی جان بچا کر آج کے کسی مجاہد کے مددگار بنیں۔ کیونکہ کل جب کہانی لکھی جائے گی تو ناصر شاہ بھی نکلیں گے، ہمیں اپنے اردگرد نظر رکھنی ہوگی اور اسماٗ ْ افتالیہ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔

ہوسکتا ہے ہم حلب کا وہ کپڑے کا تاجر ہی ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں وبا سے متاثرہ لوگوں کی خدمت کی ذمہ داری ملے۔ راہ حق میں جہاں کھڑے ہو اپنے کردار کو پہچانو اور اس کے ساتھ انصاف کرنا شروع کر دو۔ اللہ اجر دے گا۔

کرداروں کی طرح ہتھیاروں کو بھی پہچانو، جس مہارت سے قائی قبیلہ کے نوجوان تیغ زنی کرتے ہیں قابل رشک ہے۔ کلہاڑا چلانا بھی بہت خوب۔ بس یہ سوچو کہ آج کلہاڑے کا نہیں میڈیا کا دور ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آج ہمیں تلوار چلانے والوں سے زیادہ عقائد کا دفاع کرنے والوں کی ضرورت ہو۔ہو سکتا ہے کہ زرہ کی جگہ اب ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط کرنا پڑے۔ اپنے کردار سے دشمن کو شکست دینا بھی وقت کا اہم تقاضٓا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ شاعر کہتا ہے۔

حُسن کِردار سے نُورِ مجسّم ہو جا کہ               اِبلیس بھی تُجھے دیکھے تو مسلمان ہو جائے

وقت جدید ہے اب دشمن کی چالیں بھی مزید شاطرانہ ہوچکی ہیں۔ علم و ہنر وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ خدا اور رسول کی محبت کا دامن تھام کر ہمیں جدید ہتھیاروں سے لیس ہونا ہوگا۔ ٹیکنالوجی سے خود کو لیس کرنے کے ساتھ ساتھ جوانی کو بے داغ رکھنا ہوگا تاکہ اللہ رب العزت کی نصرت نصیب ہو۔ ہمیں چوکنا ہو کر سازشوں کا سامنا کرنا ہوگا، دوست اور دشمن کو پہچاننا ہوگا۔ انشاٗ اللہ فتح حق کی ہوگی۔ اللہ کرے اس سے شہادت کی تمنا بیدار ہو، کشمیری بہنوں کے بھائیوں کی غیرت جاگ جائے۔ آزاد حسین آزاد کی تازہ غزل کے دو اشعار کے ساتھ تحریر کا اختتام کرتا ہوں۔

دوسرا عشق حل نہیں ہوتا
سب کا نعم البدل نہیں ہوتا
تُرک” کردوغلو” بھی ہوتے ہیں
ہر کوئی “ارتغل” نہیں ہوتا

قوموں کی زندگی اور امید کا کردار

hope

قوموں کی زندگی میں مشکل وقت  آتے رہتے ہیں۔ اس نظام ارض و سماٗ نے بہت سے عجیب و غریب واقعات دیکھے ہوں گے۔ مختلف قسم کے لوگوں نے مشکل وقت میں مختلف قسم کی کہانیاں تاریخ کے اوراق پر رقم کیں ہیں۔ اس چرخ نیلی فام نے دیکھا کہ طارق بن زیاد نے کشتیاں جلا دیں۔ یہاں کم ترین افرادی قوت کے باوجود جذبوں کی طاقت سے، اپنے سے تین گنا بڑی فوج کو شکست دینے والے  جانباز سپاہی بھی گزرے ہیں۔ بڑے بڑے نمرود اس سر زمین نے اپنے سینے پر ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرتے دیکھے اور اسی مٹی نے اپنے سینے میں حاتم طائی، انصار مدینہ ، عبدالستار ایدھی، رتھ فائو اور ان جیسے کئی عظیم وجود   اپنے  اندر سمو لیے ہیں۔جیسا کہ امیر مینائی نے کہا: ۔

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

یہ صورتحال ہر شخص ، قوم یا قبیلے کی زندگی میں آ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں قوموں کو حوصلہ افزاٗ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر فی زمانہ بڑی سنگین صورتحال ہے۔ دور جدید کا میڈیا چیخ چیخ کر ہر وہ بات بتا رہا ہے کہ جس سے امید کا دامن تار تار ہوا  جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قوم کےراہنما بھی عجیب گومگو صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں جن کو یہ زعم تھا کہ وہ دنیا کی ہر اچھائی کا عملی نمونہ ثابت ہوں گے ، ان کے عملی اقدام نے سر سے آسماں کھینچ لیا ہے۔ زمیں ہے کہ لمحہ بہ لمحہ سرکتی جا رہی ہے۔ عوامی عمل کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ احتجاج جو کہ جمہوری عمل کا حسن اور توازن برقرار رکھنے کی بنیاد ہے، اسے ناممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرکے کبھی کوئی بھی سربراہ(ادراہ،مملکت یا گھرانہ)کامیاب ہوا ہے؟

  ان حالات میں بہت سے ایسے نام ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا ، مگر افسوس کہ جب وہ منظر عام پر لب کشائی کرتے ہیں تو گویا جنگ کا سماں بندھ جاتا ہے۔ عوامی نمائندگی کی جھلک ندارد۔ قوم کو سچ اور جھوٹ ایسا پھینٹ کر پیش کیا جاتا ہے کہ عام  آدمی کے تذبذب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں یقین جیسا سرمایہ ناپید ہوچکا ہے۔ سرمایہ کاری کرنی ہے تو قوم کا اعتماد بحال کرنے پر کرو تاکہ کوئی تمہاری انگلی پکڑ کر چلے تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ اگلے ہی موڑ پر اسے شطرنج کی کسی چال کا مہرہ بنا دیا جائے گا۔ ورنہ شطرنج کا اصول ہے کہ مخالف کا پیادہ اگر آپ کے کسی کلیدی عہدےکے خانے تک پہنچ جائے تو وہ اس عہدے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ جس کے ساتھ ہی بساط الٹنے لگتی ہے۔ واپس بات پر آتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:۔

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے
یہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے

 مجھے کسی سامراجی قوت سے ڈر نہیں لگتا، مگر بے یقینی کے قہر سے ڈر لگتا ہے۔ معیشت ڈوبی تو سنبھل جائے گی، سیاسی بحران کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے، اخلاقی انحطاط کا مداوا بھی شاید ممکن ہو۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین کا سرمایہ مت چھینو! نہیں تو مایوسی اس قوم کو لے ڈوبے گی۔

ان کبوتروں کو یقیں دلا دو کہہ جال کو لے کر اڑا جا سکتا ہے پھر دیکھنا یہ ہر مصیبت کو شکست دے دیں گے۔

کیونکہ بقول اقبال

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا

بس امید کے چراغ نہ بجھنے دینا کیونکہ اگر امید سے دامن خالی ہو توناکامی کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہتا۔ زوال مقدر بن جاتا ہے۔دولت کے انبار، ہوں یا لشکر جرار پھر شکست مقدر بن جاتی ہے۔کیونکہ جنگ جذبات کی ہو یا ہتھیاروں کی جذبوں سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے
حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

 

نایاب لکھاری اور نقش نگاری

کافی عرصہ تلاش کرتا رہا کہ یہ میرے سکول کی میز پر لکھنے والے کون لوگ ہیں۔
پھر مدرسہ کی کرسیوں کے بعد تحریریں دروازوں اور دیواروں پر بھی ملیں۔ ان تحریروں سے علم میں جو اضافہ ہوا وہ وہ اپنی  How to Succeedجگہ مگر معصوم ذہن نجانے کس ان دیکھی دنیا کی جانب کھچنے لگتا۔

toilets-new-york

وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا کہ ان مفت کے خدمتگاروں کی خدمات کا سلسلہ کالج کے درودیوار پر بھی نظر آیا، ریل گاڑی کی نشستیں بھی ان کی کار گذاری کا ثبوت دیتی نظر آئیں۔

ان کے قلم کے کارنامے دیکھ کر ان کی پردہ کشائی کا انتظار رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان لوگوں کی تلاش کا سلسلہ جاری رہا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

وقت نے کروٹ لی اور پھر فیس بک کا زمانہ آیا

یقین مانیں کہ مارک زکربرگ کی اس فیس بک نے اور کوئی فائدہ دیا یا نہیں میرا کام آسان کر دیا۔ میں انگشت بدنداں دیکھتا رہ گیا۔۔۔!
ہوبہو وہی تحریریں،وہی جملے اور وہی ذہنی سطح ۔
کمال ہے یار یہاں وہ لوگ اپنی شناخت کے ساتھ وہی جملے لکھتے ہوئے مل گئے۔
یہاں ان تحریریوں کو پسند کرنے کی سہولت نے یہ پول بھی کھول دیا لوگ ان باتوں سے تنگ نہیں ہوتے بلکہ حظ اٹھاتے ہیں۔ ان جملوں پر بحث معاشرے میں موجود ذہنی بیماریوں کی

تشخیص میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

مسکرا رہے ہو میری بات کا یقین نہیں آرہا۔۔۔؟ کھولو فیس بک اور یہ لوگ اب نایاب نہیں رہے بھرمار ہے ان کی۔۔۔۔۔۔Why Drama Ertugral is not good for Youth