پل دو پل کو سامنے آو

Right-and-duties

*پل دو پل کو سامنے آؤ*
انتخابی اصلاحات پر بھی بات هوتی هے. جلسے ,جلوس اور کارنر میٹنگ بھی انعقاد پذیر هوتے هیں.کارکنوں کو متحد رکھنا بھی ضروری هے.کیا کسی بھی عوامی نمائنده جماعت کو همارے گھر کی فکر هے?میرے حلقے میں کتنی کرپشن هے,میری یونیں کونسل میں کیا هورها هے.
یار مجھے پانامه سے کیا غرض اگر میری یونیں کونسل میں پچھلے ستر سال سے سارے بے داغ دامن والے نمائندے هیں.اگر نهیں هیں تو ان کو انصاف کے کٹهرے میں کھڑا کرو,تب مانوں گا

کچھ دنوں میں شخصیات کارڈ بانٹیں گی. بینر لگیں گے. ڈھول بجے گا. الغرض سیاسی دنگل سجے گا اور جونهی انتخابی بین بجے گی تو هر وه سیاسی جاندار جو ناپید لگ رها تھا. جھومتا هوا سامنے آۓ گا.
آج اگر کسی کو اس “عوامی نمائندے” کا علم هے تو خدارا!
پتا بتا دو? یا اسے که دو
*پل دو پل کو “سامنے آؤ”*
میری یونین کونسل کے نمائندے کا دل کرتا هے که اسے بھی پارلیمنٹ کے پاس کوئی سیاسی دکان(ریڑھی) چلانے دی جاۓ.کیونکه یونین کونسل اس کے شایان شان جگه نهیں هے.
کیونکه یونین کونسل میں بیٹھ کر حفاظتی ٹیکے لگانے والے مکمل صحت بخش ماحول میں معصوم انسانوں کی خدمت میں مصروف هیں.
کیا تمام سرگرمیاں صرف اسلام آباد کے لیے هیں?یار کوئی انهیں بتاو کهه یونین کونسل میں بیٹھو تم یهاں کے نمائندے هو. اور حزب مخالف کا هر کارکن جیسے دفاعی مورچے پر نصب توپ هو . اسے فکر نهیں هے کهه میری یونین کونسل ,میرے حلقے میں تجاوزات بڑھ رهے هیں, بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان هے…..
بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے تو ٹھرے طاقتور اور وڈیرے ان سے تو سوال جان کا وبال.
چھوٹے چھوٹے کونسلر اپنی کونسلری کا فائده یوں اٹھا رهے هیں که:
کوئی مکان بنا کر بیچ رها هے.
کوئی کاروباری سرگرمیوں میں فائدے حاصل کر رها هے.
اور جنهوں نے نمازی اور خشیت الهی رکھنے والوں سے ووٹ وصول کیا تھا وه پھر سے مساجد میں خطبے دے رهے هیں. جنازے پڑھ رهے هیں اور کبھی کھبار کوئی مذمتی بیان داغ دیتے هیں.
ارے! پارلیمنٹ میں تمهاری جماعت کے نمائندے موجود هیں ناں?
تو بھائی وه اسلام آباد میں کام کر لیں گے بھروسه رکھو

You-can-stop-corruption-e1472832571329

تم اپنے حلقے,اپنی یونین کونسل میں کام کرو. یهاں پر اپوزیشن کا کردار نبھاو. یهاں کے تعلیمی اداروں کا دوره کرو,یهاں کی مساجد(بلاتفریق) کو دیکھو,اپنی یونین کونسل کی کاروباری اور سیاسی مصروفیات بناو.
پھر اسلام آباد والوں کی مدد کرنے چلے جانا. یار یهاں بھی پانی کی سکیمیں هیں ,ترقیاتی کام هو رهے هیں. کرپشن هونے کے بعد لکیر پیٹنے والو!
موجوده منصوبوں میں کرپشن کو کم از کم مشکل هی بنادو.
یار عوام کو ان کے حقوق سے آگاه هی کردو.
میرے گھر سے البراک کا کارنده جب کوڑا نهیں اٹھاتا تو مجھے کیا کرنا هے.
اگر الله نے تمهیں شعور و آگهی عطا کی هے تو اسے معاشرے کی فلاح پر لگاو.ان لوگوں کو حق شناس کرو جو فکر معاش کے نیچے دب کر سسک رهے هیں.
اٹھو!
للکارنا هے نا تو, اپنے محلے کی گندگی کو للکارو. تمهیں شکست دینی هے ناں! گلیوں میں چلتے پھرتے موت کے سوداگروں کو دو. جو منشیات کا زهر نئی نسل کی رگوں میں اتار رهے هیں.
پانامه پر سوچو ضرور آخر تم سیاسی شخص هو.
مگر مجھے میری یونین کونسل کو مثالی بنادو. میرے بچے تعلیم ,تفریح,صحت اور کھیل کود سے محروم هیں. اس کے لیے سوال اٹھادو.
*پل دو پل کو سامنے آو*
#انسانیت
#حق_شناس
#درد_نویس

(نوید شاکر )

خودی کا سر نہاں لا الہ اللہ Self recognition and Allama Iqbal

علامہ محمد اقبال نے خود شناسی کی اہمیت جس قدر اجاگر کی ہے وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔اپنی ذات کو پہچاننے اور مقصد تخلیق کو کھوجنے جیسے راستے جس منزل کو جاتے ہیں۔ وہ مقام جہاں مادیت پرستی،لالچ و ہوس کی گرد چھٹتی ہے، وہ جہاں انسان فرشتوں سے بہتر بننے کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔میں اپنے ان جملوں کے مرکزی خیال کو خودی کا نام دوں گا۔مجھے عربی زبان کا وہ قول یاد آرہا ہے کہ : ’’جس نے خود کو پہچان لیا،تحقیق اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔‘‘ ۔وہ جسے لوگ شاعر مشرق کہتے ہیں،جس نے اسلامی عقائد و نظریات اور معاشرے میں موجود نظریاتی بیماریوں کو  اشعار کا رنگ دیا وہ جا بجا خود شناسی کو اسلام کا راز بتا رہے ہیں۔

تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا             خودی کا راز داں ہوجا خدا کا ترجماں ہو جا

میں اگر خود کو تاریخ کے میدان میں کھڑا کرتا ہوں تو جُھرجھری لے کے رہ جاتا ہوں، میں حیران ہوں کہ اس  تاریخ کے مطابق تو میں محمد ﷺ فاتح مکہ کا امتی ہوں،میں عمر اِبن خطابؓ کی دلیری کا امین ہوں،میں علی حیدر کرارؓ کی عظمت کی داستاں ہوں۔ یارو! یقین نہیں آتا کہ محمد بن قاسم سے میرا بھی کوئی تعلق ہے۔۔۔؟یہ کسی دشمن کی چال ہوگی ورنہ میں تو سیف علی خان ، شاہ رخ خان کا دلدادہ ہوں،سنو! یہ صداقت ،عدالت،شجاعت اور ایمانداری ان لوگوں کے بہانے ہیں جو کام کرنا نہیں جانتے۔ ماڈرن دنیا میں تو سب چلتا ہے۔یہ جن باتوں کو مولوی سود ، فریب

 Marketing Tactics اور غلط بیانی کہتے ہیں یہ تو

ہیں

  اب آپ ہی بتائیں یہ کوئی دور ہے شرم و حیا کایہ سب تو پرانے وقتوں کی باتیں ہیں۔کپڑے انٹرویو کے مطابق ہونے چاہیں۔ اگر سلیکٹ ہونا ہے تو بولڈ ہونا ضروری ہے بہرحال میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر میرا ذرہ برابر کوئی تعلق ہوتا تو کچھ تو جھلک ہوتی اُن لوگوں کی مجھ میں۔۔؟اس دور میں اقبالؒ کی سنیں تو کہیں کے نہ رہیں۔اقبالؒ کو ایک بار تو سوچنا چاہیے تھا یہ کہتے ہوئےکہ

‘‘کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِبازو کا     نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں’’

بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہے کوئی منطق اس بات کی۔

اقبال صاحب ، اب بندہ فیس بک چلائے یا مَرد مومن کی نگاہ والی بات پر توجہ دے۔

یہ وٹس ایپ کا دور ہے میں اپنی سواری بدلوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، رہائش کو عظیم الشان علاقے میں منتقل کروں۔۔۔۔۔۔۔۔، مجھے بدلنی ہے تو اپنی کلاس بدلوں گا۔ اس مڈل کلاس میں شرم آتی ہے اب۔

مجھے کیا پڑی ہے کہ کسی کی تقدیر بدلنے چل پڑوںـــــــــــــــــــــــــــــ! ہ

قصہ مختصر یہ کہ: ہ

 وہ ستم خوردہ شاہیں جو پلا ہو کرگسوں میں             اسے کیا خبر کہ کیا ہیں راہ و رسمِ شاہ بازی

یا تو یہ تاریخ جھوٹ بول رہی ہےیا پھر مجھے خود کو بدلنا ہوگاـــــــــــــــــــــ

مکان کی تعمیر کا نہیں، کائنات کی تسخیر کا سبق پڑھنا ہوگا

فیشن کے جلوٗوں میں نہیں اسلامی تہذیب و تمدن میْن دل لگانا ہوگا

ہیر سٹائل اور گوری رنگت کا راگ الاپنے والوں کو تعمیر ذات اور کردار کی اہمیت سے روشناس کرانا ہوگا۔

اقبال کے شاہینو! ہمیں ہر قیمت پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا ہوگا۔

میں اپنی اولاد کو بتاوُں گا

کہ علی بابا اور چالیس چوروں کا چھوٹ بولنا گناہ ہے اور ابوبکرؓ آج سچائی کی وجہ سے صدیق  کہلاتے ہیں، ایک عبدالقادر سچ بولے تو ڈاکوُوں کا سردار تائب ہو جاتا ہے۔ اگر 

BEN10

کی گھڑی میں کوئی منطق ہو سکتی ہے تو عمر ابن خطاب ؓ کانام لینے سے شیطان بھاگ سکتا ہے، میں اس شعر کے ساتھ بات کو ختم کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔

عطا اسلاف کا جذبِ دروں کر          شریکِ زُمرہٗ لایحزنوں کر

خرد کی گُتھیاں سلجھا چکا میں          میرے مولا! مجھے صاحبِ جُنوں کر

“I am For Sale” میں برائے فروخت اور قیمت اتنی کم کہ سوچ ہے آپکی

میں جسے انسان ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جوں جوں پیدائش سے ارتقائ کی منازل طے کرتا جا رہا تھا۔

men braey.png

رفتہ رفتہ بہت سے ادراک عقل و شعور کو نئی روشنی بخش رہے تھے۔اوائل حیات میں تو الفاظ سے ہی نا آشنا تھے ہم ,مگر جب الفاظ سیکھ بھی لیئے تھے ابھی قیمت اور اہمیت جیسے الفاظ کے مفہوم سے آگاہ نہ تھے۔

یہ دنیا بہت بڑی استاد ہے۔ یوں تو بچپن سے ہی ہم والدین اور گھر کے دیگر افراد سے محبت بھرے نذرانے وصول کرتے رہتے تھے پر  جب پہلی بار گھر میں آئے ہوئے مہمان نے رخصت ہوتے ہوئے کاغذ کا ایک ٹکڑا پکڑاتے ہوئے کہا۔۔!

لے پتر پیسے! کوئی شے کھا لیئں

 پی۔کے کی طرح ہم اس کاغذ کے ٹکڑے کی اہمیت پر غور فرمانے لگے۔قیمت کا تصور ذہن میں آیا پھر فیصلہ ہوا کہ یہ کاغذ کا مخصوص ٹکڑا کچھ خاص ہے۔ کچھ اہمیت ہے اس کی۔

قیمت کیا ہوتا ؟ یہ بھی پنی جگہ اک سوال تھا۔اسی جستجو میں تھے کہ پتہ چلا اس طرح کے بہت سے اوربھی کاغذ اور سکے دنیا میں پائے جاتے ہیں جواپنی اہمیت کی دھاک جمائے بیٹھے ہیں۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ہر سکے کی اہمیت مختلف ہے۔اگر ہے تو کس بنا پر جبکہ سب کاغذ ہیں؟اگر بیس روپے کا نوٹ ایک چھلی کے عوض دیا توحساب برابر مگر ایک روٹی کے عوض دیا تو خسارہ۔

ان سب سوالوں کے خمیر سے ایک نہایت عجیب و غریب سوال نے جنم لیا۔

میری قیمت کیا ہے؟کم سے کم کتنے روپے، ڈالر یا ریال؟

ہر انسان کی ابھی ایک قیمت ہوتی ہو گی ناں۔ اس نہج پر سوچتے ہوئے ایک نئی سمت چل نکلے۔ یہاں ہر کوئی بک رہا تھا۔کمال ہے یار ہم نے دیکھا ایک خوبرو جوان جو تعلیم یافتہ اور هوشیار ہونے کے ساتھ ساتھ ،مستعد بھی تھا

  ‘‘کام والی ملازمہ’’

کے حسن کے بدلے بک رها هے. کوئی ہمارے اندر سے چیخ رہا تھا ۔ رک جاو خدا کےلیے خود کو اتنی کم قیمت پر مت بیچو۔

مگر ہم بے بسی سے تماشا دیکھنے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

زندگی اور خوبصورت

یہ اس منڈی کا اصول ہےکہ بیچنے والے کی مرضی ، اس کامال وہ جتنے دام چاہے وصول کر لے۔ عجب تاجر دیکھے:

  • کوئی والدین کی رضا پر بک گیا
  • کوئی دوشیزہ کی حیا پر بک گیا
  • تو کوئی کسی رقاصہ کی ادا پر بک گیا

کسی نے گھبرا کر اپنے دام گرا دیے تو کوئی اچھی قیمت وصول کرنے کا منتظر ہے۔کوئی انمول ہوتا جا رہا ہے تو کوئی بے مول بکتا جا رہا ہے۔دل نے چاہا کے اس تاریخی خسارے کو روکوں ، کوئی دھرنا دے دوں مگر کیا کروں جب مالک خود گھاٹے پر رضا مند ہیں؟؟؟؟

آپ سوچ تو رہے ہوں گے یہ سب باتیں آپ کو بتانے کا بھلاکیا مقصد ہے؟

مقصد تو ہے میرے دوست! سوچو زرا تم کس مول بک رہے ہو؟

تمہارا معیار کیا ہے؟ اپنی قیمت کیا لگاتے هو؟؟

  • ماں کی دعا پر
  • بازاری حسن کی ادا پر
  • گرین کارڈ اور ڈالر کی ہوا پر

 جس مول بکو! تمہاری مرضی۔ بہت سستے نہ بک جانا

نیند کا فالج sleep paralysis

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا هوا کے رات کو اچانک بیدار هوۓ هوں تو خود کو کسی ان دیکھی مخلوق کے زیر اثر پائیں یوں لگے جیسے کسی نے هاتھ پاؤںپکڑ رکھے هیں حرکت کرنا چاهتے هیں مگر نهیں کر پارهے لاچار مدد کو پکارنا چاهتے هیں مگر آواز نهیں نکل رهی. پھر کچھ وقت کے بعد آپ اس اثر سے نکل آتے هیں اور دیکھتے هیں سب معمول کے مطابق هے


اسی مسئله کو نیند کافالج کهتے هیں.بهت هی خوفناک تجربه هوتا هے. بے بسی کے باعث انسان بهت برا محسوس کرتا هے مگر ڈرنے کی کوئی بات نهیں. کچھ لوگ اسے جن بھوت یا آسیب کا اثر قرار دیتے هیں مگر میں سمجھتا هوں ایسا کچھ نهیں هے ,میں بذات خود کئی بار اس خوف سے گزر چکا هوں

“زندگی میں پهلی بار جب میرے ساتھ ایسا هوا تو میں رات کو گھر میں اکیلا تھا مگر اسلامی نقطه نظر اور الله پر بھروسه کر کے دوباره سوگیا تھا”

اس کی وجوهات جو کئی لوگوں نے بیان کی هیں ان میں

  • نیند کی کمی
  • نیند کے معمول میں بے ترتیبی
  • سونے کی جگه یا ماحول کی تبدیلی کا نفسیاتی اثر

اس صورتحال سے باهر آنے کے طریقے

مزید پڑهیں

خوف کو قابو کریں اور مزاحمت نه کریں اپنے هاتھ یا پاؤں کی انگلی کو حرکت دیں اپنی سانسوں پر توجه مرکوز کریں اپنے سب سے پیارے شخص یا شے کے بارے سوچیں دو سے تین بار ایسے شکل بنائیں جیسے بدبو آرهی هے امید هے ان باتوں کو جان کر آپ کو اس مشکل سے جان چھڑانے میں مدد ملے گی.

زندگی خوبصورت هے

Urdu Digest اردو ڈایٴجیسٹ اور ذوق مطالع

14517572_1145193765560799_1362082929603237004_n

میرا پسندیدہ اردو کا رسالہ ہے ۔ مطالعہ کا ذوق رکھنے والے حضرات اسے ایک بار ضرور پڑھیں۔آن لاٴن اردو ڈایٴجیسٹ

اسکے لکھاری اور ان کی تھریریں دونوں ہی بہت معیاری ہوتی ہیں۔

قران و حدیث سے آغاز کرنے کے بعد ایڈیتٹر کا نوٹ بہت ہی عمیق﴿گہرا﴾جایزہ ہوتا ہے عالمی حالات کا۔ قومی سیاست پر الطاف حسن قریشی صاحب بڑے منفرد انداز میں راےٴ کا اظہار کرتے ہیں۔

بعد ازاں اس کے حالیہ شماروں میں امہات المومنین کی حیات طیبہ سے استفادہ کی کوشش کی گیٰی ہے جو اس دور میں یقینا نٰی نسل کی ماووں کے لیے بہت ہی اچھی چیز ہے۔

اردو ہماری قومی زبان یوں تو کسی بھی کتاب کا مطالعہ زہنی راحت اور اآسودگی کا باعث بنتا ہے مگر اردو ڈاٰجیسٹ کا اپنا ہی انداز ہے۔

کردار سازی اور معاشرتی پہلووں کو اجاگر کرنے میں بھی بے مثال تحریریں اردو ڈاٰجیسٹ کی زینت بنتی ہیں۔

کردار سازی

امید ہے آپ کو میری یہ کاوش پسند آیٰ ہوگی آپ کی راےٴ کا ناتظار رہے گا۔

phrase “Quaidian Once Quaidian Forever”

Chalk&Duster

اس فلم کو دیکھنا شروع کیا تو احساس هوا که جوان جوڑے کی محبت کے علاوه بھی فلم کا کوئی موضوع هو سکتا هے. فلم آگے بڑھی تو سوچا ابھی تک هیرو کی انٹری کیوں نهیں هوئی.مگر یه فلم یکسر مختلف مگر انتهائی دلچسپ ثابت هوئی .فلم معاشرے کی اصلاح ,مسائل کی نشاندهی اور ان کے حل کی جانب اشاره کر سکتی هے.see more

اس کو دیکھ کر احساس هوا.اساتذه اپنے محاذ پر دشمن (جهالت,اندهیرے اور طوفان بدتمیزی ) سے نبرد آزما هیں مگر کیوں ان کا معاشی استحصال کیا جاتا هے. کیوں انهیں کاروباری فوائد کے بھینٹ چڑھایا جاتا هے.قوم کو اساتذه کی عظمت کا ادراک کرنا هوگا. اس فلم میں جس طرح اپنے هر استاد کی عزت کا سبق دیا گیا هے وه بهت خوب هے.اگر آپ ایک طالب علم هیں یا کبھی بھی طالب علمتھے تو اپنے هر استاد کو ملیں اور ان کی قدر کریں.

فلم کو یوٹیوب پر دیکھیں.قابل اعتبار ذریعه

زندگی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے

یہاں ہنستا کھیلتا بچپن،مسکراتی،گدگداتی شوخ و چنچل جوانی انسان کو مختلف الانواع تجربات و حقائق سے روشناس کراتی ہے۔

”آغاز حیات کتنے لطیف انداز میں ہوتا ہے”

بچپن قدرت کا وہ حسین تحفہ ہے کہ جس کی بدولت انسان زندگی جیسے تلخ تجربے سے گزرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔بچپن زندگی کی دردناک فلم کا وہ تعارفی ٹکڑا ہے ،جسے دیکھ کر انسان اس کو اختتام تک دیکھنے کا ارادہ کرتا ہے۔


یقین جانئے وہ لمحہ آپ کےلئے ہزاروں معمول پر گزارے لمحات سے قیمتی ہے:

  • جب آپ کسی نونہال کو پہلا قدم اُٹھاتے دیکھیں (اس کے والدین کی خوشی دیدنی ہوتی ہے،او ر اس بچے کےچہرے کا اعتماد،کئی شکستیں بھلانے کو کافی ہوتا ہے)

  • وہ لمحہ جب کوئی بچہ اپنی زبان سے پہلا لفظ ادا کرتا ہے۔

انسانوں کے اس ہجوم میں اگر کوئی دل سے مسکراتا ہے تو وہ بچپن ہے،اگر کوئی کھل کر ہنستا ہے تو وہ ہےبچپن۔۔۔

اپنے غم ،بغض ،عناد اور ناراضگی کو ذرا سی دیر میں بھلانے کی جادوئی طاقت فقط بچپن کا خاصہ ہے۔

        میں ترانے بھی گا رہا ہوں تو لوگ سننا گوارہ نہ کریں اور ایک وہ ننھا سا انسان تربوز کو ”تلبوج” کہے تو بھی کانوں میں سُر گھولتا ہے۔اسی بچپن میں ہمت ہے کہ جب کوئی اس سےکاپی پکڑائے تو اس کا ”پاپی” کہنا بھی برا نہیں لگتا

                         .یہاں تک تو ذات ماں کی گود(اپنی پہلی مادر علمی) سے مستفید ہوتی ہے اور گھر کا ماحول تربیت کرتا ہے

اب بچپن آپ کو لڑکپن کی دہلیز تک لا کر بِن بتائے ،چپکے سے بڑے غیر محسوس انداز میں چھوڑ جاتا ہے۔یوں زندگی کا ایک نیا روپ،نئی جہات اور منفرد احساسات لیے لڑکپن بنی آدم کا استقبال کرتا ہےیہی وہ وقت ہے کہ جب رشتوں ناطوں کی اَن دیکھی ڈور کا احساس ہونے لگتا ہے۔فلاں اچھا ہےیا نہیں ہے(پسند نا پسند)کا شعور آنکھیں کھولتا ہے،ملکیت کا  اندازہ ہونے لگتا ہے،یہ کتاب میری ہے،وہ کھلونا پیارا ہے،کوئی میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائے۔

’’خود کو ایک طاقتور ترین مخلوق سمجھنے کا واہمہ بھی اسی عمر میں اکثر لاحق ہوجاتا ہے‘‘

لو جی! اب شروع ہو جاتی ہے تکرار میرا بستہ،تمہاری تختی،میری اچھائی ،اس کی غلطی اور ہمارا مدرسہ جیسے الفاظ زبان ادا کرنے لگتی ہے اور مفہوم سمجھ آرہا ہوتاہے۔یعنی اب آغاز ہوا اس مرحلے کا کہ جب معاشرہ شخصیت کی تعمیر میں حصہ ڈالنا شروع کرتا ہے اور ذات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اسی لڑکپن کے حوالے سے جون ایلیاء نے لکھا ہے:

کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی

لڑنا تھا اس مَن مُوہن سے اپنا کھیل لڑکپن کا

. اب اٹھکیلییاں کرتی زندگی جوانی کی دهوپ میں لا کھڑا کرتی هے.جوانی کے بھی اپنے ہی لانجھے ہوتے ہیں مگر پھر بھی اچھا احساس دلاتی ہے۔ انسان کو لگتا ہے کہ سب اس کی دسترس میں ہے جو چاہے گا پا لے گا، جو مانگ لے گا وہ بس اسی کا ہے۔ حقیقتا ان لمحات میں زندگی کا مقصد طے کیا جاتا ہے، مگر جب عروج ہوتا ہے تب پند و نصائح کم ہی اثر کرتے ہیں۔ زندگی کا یہ حصہ اتنا ہی کم نقصان دہ ہوگا جتنا آپ اپنی اچھی تربیت کو یاد رکھیں۔ زیست کے یہی ایام قیمتی سرمایہ بھی بن سکتے ہیں اور سامان افسوس بھی۔  کہنا چاہوں گا کہ اس دور میں ایک مقصد کا انتخاب کریں بلند ترین مقصد کا اور اسے پورا کرنے میں جْت جائیں، بس بھر زندگی خوب صورت لگنے لگے گی۔

نئے راستوں کا انتخاب کرنا جہاں آپ کو اختیار کا احساس دلائے گا وہیں ذمہ داری کا بوجھ بھی لاد دے گا۔آپ کو جینا ہے ان لمحوں کو بھر پور گزارنے والے بہت ہیں، زندگی جینے کی شئے ہے بھیا! شکوے شکایات بزدل کرتے ہیں۔ اپنا راستہ خود بناو اپنی شخصیت کی تعمیر کروں ایسے کہ ہمسفروں کے لئے مشعل راہ اور حوصلہ بن جاو۔ زندگی ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں جو بولو وہی گونجتا ہے۔

خوشیاں ڈھونڈو نہیں بانٹنے لگ جاو۔ مسرتیں ملیں گی۔ اس حسیں دور میں ہم سفر کے چننے کا مرحلہ آتا ہے،۔ آہ صنف مخالف میں بھی اللہ نے کیسی کشش رکھی ہے۔ مقصد شقصد سب اک پاسے رہ جاندا یے۔۔۔۔

جوان و حسین خوبرو چہرے دلفریب ادائیں بھی اپنا مقام رکھتی ہیں، زندگی پر لطف اور پرجوش ہو جاتی ہے جب کوئی دل کی دھرتی کا مہمان بن جاتا  ہے۔ انسان کو اپنی جوانی کے دور کے ہی گانے کیوں یاد رہتے ہیں؟ بھائی جوانی جوانی ہے آخر۔ بقول شاعرؔ

 رات بھی نیند بھی کہانی بھی         ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

ایک شخص پوری کائنات کے ہم وزن ہو جاتا ہے ناں۔۔؟ محبت دل میں بس جائے تو یہی ہوتا ہے۔ بات کدھر نکل گئی۔ واپس آتے ہیں۔ دور جوانی میں جسم توانا ہوتا ہے، عزائم بلند اور خواب واضح رکھنے والے دنیا کو مسخر کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ کائنات بنانے والے کے اصولوں کے خلاف چل کر کامیابی و کامرانی تلاش کرنے کی دھن میں خود کو گنوا بیٹھتے ہیں۔ یہ مجنوں، ہیر ، رانجھا یہ سب جوانی کے مارے لوگ ہیں۔ جوانی ہی محمد بن قاسم بناتی ہے اور جوانی کا نشہ اگر سنبھالا نہ جا سکے تو پھر رسوائیاں ، تنہایاں اور پچھتاوے بھی جوانی بغل میں لیئے پھرتی ہے۔

اسی جوانی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے  ہوئے انسان اگلی نسل کو بچپن عطا کرتا ہے اور اولاد جیسی نعمت ملتی ہے۔ پہلا پیراگراف ایک بار پھر  دہرایا جاتا مگر زرا مختلف انداز میں۔  اب احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کے لئے کیا تھے۔ اولاد کی تربیت، ضروریات زندگی ، رشتوں کی    ڈوریاں    سب اکھٹے نبھانا ہوتا ہے۔ کچھ تعلق مضبوط ہو جاتے ہیں کچھ کے ٹوٹنے کا دکھ بھی سہنا پڑتا ہے۔ جوانی بہت سے سبق پڑھاتی ہے مگر جماعت   ہر طالب علم لائق نہیں ہوتا۔ جوانی لا کر بڑھاپے کی دہلیز پر تقریبا زبردستی چھوڑ جاتی ہے کیونکہ کوئی اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا

میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر

اب فلم اختتام کی جانب اور کہانی انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بات کرتے ہیں بڑھاپے کی تو یہ عقل کی پختگی، تجربے کے زاد راہ اور پچپنے کی خصوصیات کا ایک حسین امتزاج ہوتا ہے۔ بڑھاپے کے اجزائے ترکیبی ہر شخص کے اپنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ عمر کا یہ آخری حصہ اس شخص کے بچپن کی شرارتوں ،نادانیوں، مایوسیوں اور دور جوانی کی یادوں طاقت کے زعم یا علم کی عاجزی، زندہ دلی یا بزدلی سے عبارت ہوتا ہے۔ زندگی کے گذشتہ ادوار میں حاصل کردہ لذت گناہ یا بزرگئی حیا کے خمیر سے بڑھاپا تشکیل پاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

you can also read this wonderful article: تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے interviews or jobs k silsily…!

 

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے آمدن کا حصول

بلاگ کیا ہوتا ہے؟

انٹرنیٹ سے ، کمپیوٹر سے پیسا کیسے کمایا جائے؟

part-time-online-jobs-for-students

These are Topics that are more discussed now a days.

kindly visit The following links:

1. For making money with internet:

Internet money earning

2. Earn through Facebook:

Direct Link for FaceBook

3. Earn through mobile apps:

اردو میں پڑھیں