زندگی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے

یہاں ہنستا کھیلتا بچپن،مسکراتی،گدگداتی شوخ و چنچل جوانی انسان کو مختلف الانواع تجربات و حقائق سے روشناس کراتی ہے۔

”آغاز حیات کتنے لطیف انداز میں ہوتا ہے”


بچپن قدرت کا وہ حسین تحفہ ہے کہ جس کی بدولت انسان زندگی جیسے تلخ تجربے سے گزرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔بچپن زندگی کی دردناک فلم کا وہ تعارفی ٹکڑا ہے ،جسے دیکھ کر انسان اس کو اختتام تک دیکھنے کا ارادہ کرتا ہے۔

یقین جانئے وہ لمحہ آپ کےلئے ہزاروں معمول پر گزارے لمحات سے قیمتی ہے:

  • جب آپ کسی نونہال کو پہلا قدم اُٹھاتے دیکھیں (اس کے والدین کی خوشی دیدنی ہوتی ہے،او ر اس بچے کےچہرے کا اعتماد،کئی شکستیں بھلانے کو کافی ہوتا ہے)

  • وہ لمحہ جب کوئی بچہ اپنی زبان سے پہلا لفظ ادا کرتا ہے۔

انسانوں کے اس ہجوم میں اگر کوئی دل سے مسکراتا ہے تو وہ بچپن ہے،اگر کوئی کھل کر ہنستا ہے تو وہ ہےبچپن۔۔۔

اپنے غم ،بغض ،عناد اور ناراضگی کو ذرا سی دیر میں بھلانے کی جادوئی طاقت فقط بچپن کا خاصہ ہے۔

        میں ترانے بھی گا رہا ہوں تو لوگ سننا گوارہ نہ کریں اور ایک وہ ننھا سا انسان تربوز کو ”تلبوج” کہے تو بھی کانوں میں سُر گھولتا ہے۔اسی بچپن میں ہمت ہے کہ جب کوئی اس سےکاپی پکڑائے تو اس کا ”پاپی” کہنا بھی برا نہیں لگتا

                         .یہاں تک تو ذات ماں کی گود(اپنی پہلی مادر علمی) سے مستفید ہوتی ہے اور گھر کا ماحول تربیت کرتا ہے

اب بچپن آپ کو لڑکپن کی دہلیز تک لا کر بِن بتائے ،چپکے سے بڑے غیر محسوس انداز میں چھوڑ جاتا ہے۔یوں زندگی کا ایک نیا روپ،نئی جہات اور منفرد احساسات لیے لڑکپن بنی آدم کا استقبال کرتا ہےیہی وہ وقت ہے کہ جب رشتوں ناطوں کی اَن دیکھی ڈور کا احساس ہونے لگتا ہے۔فلاں اچھا ہےیا نہیں ہے(پسند نا پسند)کا شعور آنکھیں کھولتا ہے،ملکیت کا  اندازہ ہونے لگتا ہے،یہ کتاب میری ہے،وہ کھلونا پیارا ہے،کوئی میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائے۔

’’خود کو ایک طاقتور ترین مخلوق سمجھنے کا واہمہ بھی اسی عمر میں اکثر لاحق ہوجاتا ہے‘‘

لو جی! اب شروع ہو جاتی ہے تکرار میرا بستہ،تمہاری تختی،میری اچھائی ،اس کی غلطی اور ہمارا مدرسہ جیسے الفاظ زبان ادا کرنے لگتی ہے اور مفہوم سمجھ آرہا ہوتاہے۔یعنی اب آغاز ہوا اس مرحلے کا کہ جب معاشرہ شخصیت کی تعمیر میں حصہ ڈالنا شروع کرتا ہے اور ذات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اسی لڑکپن کے حوالے سے جون ایلیاء نے لکھا ہے:

کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی

لڑنا تھا اس مَن مُوہن سے اپنا کھیل لڑکپن کا

. اب اٹھکیلییاں کرتی زندگی جوانی کی دهوپ میں لا کھڑا کرتی هے.

 

۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

you can also read this wonderful article: تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے interviews or jobs k silsily…!