بد روحیں اور ہماری سوچ افریقی بچے یا بھوت Witchcraft and Society

ہماری زندگی میں بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر بہت سے لوگ یا تو بات ہی نہیں کرتے یا مجبورا ان کو مانتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ان لوگوں کا ہے جنہیں  عطائی ڈاکٹر تندرست قرار دیتے ہیں، حکیم بھی تین چار فیسیں وصول کرنے کے بعد کنارہ کر  

لیتے ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ایسی بہت سی راتیں گزر چکی ہیں جن میں دیر تلک یہ سوچ دماغ پر حاوی رہی کہہ متاثرہ شخص کس اذیت کا شکار ہے۔

 جانے کیوں ایک انجانا ڈر سوال کرنے سے بھی روک لیتا ہے۔ صورتحال اس وقت بہت خراب ہوتی ہے جب آپ کا کوئی عزیز ترین شخص آپکی 

bhootآنکھوں کے سامنے بولتا ہے اور آواز کسی اور کی ہو۔

اب کوئی کہے کہہ اس پر سایہ ہے۔ جن نکالنے والا بابا بنا سوچے اس کے جسم کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنا  دے۔ ایسا ہی کچھ ایک افریقی ملک میں ہو رہا ہے جہاں مذہبی پیشوا جن نکالنے اور جادو کا اثر ختم کرنے کے  بہانے معصوم بچوں اور بچیوں کو مختلف مظالم کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ ایک مسئلہ سہی مگر اس کی آڑ میں بچوں سے نہ صرف ان کا بچپن بلکہ  گھر چھین لینا، لڑکیوں کی عزت تار تار کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ جس پر انسانی حقوق پر کام کرنے والے افراد اور اداروں کو تشویش ہے۔پاکستان میں بھی ایسے بہت سے مظالم ہو تے ہیں۔  ۔اس پر فلم انڈسٹری اس چیز کو بڑھا رہی ہے۔الجزیرہ اور بہت سے عالمی اخباروں نے اس مسئلے کو بیان کیا ہے
ہمیں اس سلسلے کو روکنے کے لیے اگاہی کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہہ ہمارا میڈیا بھی اس مسئلے کو غلط رنگ دے کر انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہا ہو جیسے کہہ ڈراما سیریل بندش  جو اے۔آر۔وائے پر آیا۔  اس طرح کے موضوعات کو فلمانے سے پہلے ان کے اثرات کا جائزہ بہت ضروری ہے
۔
تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کی تربیت پر خصوصا توجہ دینا ہوگی۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s