قوموں کی زندگی اور امید کا کردار

hope

قوموں کی زندگی میں مشکل وقت  آتے رہتے ہیں۔ اس نظام ارض و سماٗ نے بہت سے عجیب و غریب واقعات دیکھے ہوں گے۔ مختلف قسم کے لوگوں نے مشکل وقت میں مختلف قسم کی کہانیاں تاریخ کے اوراق پر رقم کیں ہیں۔ اس چرخ نیلی فام نے دیکھا کہ طارق بن زیاد نے کشتیاں جلا دیں۔ یہاں کم ترین افرادی قوت کے باوجود جذبوں کی طاقت سے، اپنے سے تین گنا بڑی فوج کو شکست دینے والے  جانباز سپاہی بھی گزرے ہیں۔ بڑے بڑے نمرود اس سر زمین نے اپنے سینے پر ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرتے دیکھے اور اسی مٹی نے اپنے سینے میں حاتم طائی، انصار مدینہ ، عبدالستار ایدھی، رتھ فائو اور ان جیسے کئی عظیم وجود   اپنے  اندر سمو لیے ہیں۔جیسا کہ امیر مینائی نے کہا: ۔

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

یہ صورتحال ہر شخص ، قوم یا قبیلے کی زندگی میں آ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں قوموں کو حوصلہ افزاٗ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر فی زمانہ بڑی سنگین صورتحال ہے۔ دور جدید کا میڈیا چیخ چیخ کر ہر وہ بات بتا رہا ہے کہ جس سے امید کا دامن تار تار ہوا  جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قوم کےراہنما بھی عجیب گومگو صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں جن کو یہ زعم تھا کہ وہ دنیا کی ہر اچھائی کا عملی نمونہ ثابت ہوں گے ، ان کے عملی اقدام نے سر سے آسماں کھینچ لیا ہے۔ زمیں ہے کہ لمحہ بہ لمحہ سرکتی جا رہی ہے۔ عوامی عمل کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ احتجاج جو کہ جمہوری عمل کا حسن اور توازن برقرار رکھنے کی بنیاد ہے، اسے ناممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرکے کبھی کوئی بھی سربراہ(ادراہ،مملکت یا گھرانہ)کامیاب ہوا ہے؟

  ان حالات میں بہت سے ایسے نام ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا ، مگر افسوس کہ جب وہ منظر عام پر لب کشائی کرتے ہیں تو گویا جنگ کا سماں بندھ جاتا ہے۔ عوامی نمائندگی کی جھلک ندارد۔ قوم کو سچ اور جھوٹ ایسا پھینٹ کر پیش کیا جاتا ہے کہ عام  آدمی کے تذبذب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں یقین جیسا سرمایہ ناپید ہوچکا ہے۔ سرمایہ کاری کرنی ہے تو قوم کا اعتماد بحال کرنے پر کرو تاکہ کوئی تمہاری انگلی پکڑ کر چلے تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ اگلے ہی موڑ پر اسے شطرنج کی کسی چال کا مہرہ بنا دیا جائے گا۔ ورنہ شطرنج کا اصول ہے کہ مخالف کا پیادہ اگر آپ کے کسی کلیدی عہدےکے خانے تک پہنچ جائے تو وہ اس عہدے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ جس کے ساتھ ہی بساط الٹنے لگتی ہے۔ واپس بات پر آتے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:۔

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے
یہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے

 مجھے کسی سامراجی قوت سے ڈر نہیں لگتا، مگر بے یقینی کے قہر سے ڈر لگتا ہے۔ معیشت ڈوبی تو سنبھل جائے گی، سیاسی بحران کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے، اخلاقی انحطاط کا مداوا بھی شاید ممکن ہو۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین کا سرمایہ مت چھینو! نہیں تو مایوسی اس قوم کو لے ڈوبے گی۔

ان کبوتروں کو یقیں دلا دو کہہ جال کو لے کر اڑا جا سکتا ہے پھر دیکھنا یہ ہر مصیبت کو شکست دے دیں گے۔

کیونکہ بقول اقبال

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا

بس امید کے چراغ نہ بجھنے دینا کیونکہ اگر امید سے دامن خالی ہو توناکامی کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہتا۔ زوال مقدر بن جاتا ہے۔دولت کے انبار، ہوں یا لشکر جرار پھر شکست مقدر بن جاتی ہے۔کیونکہ جنگ جذبات کی ہو یا ہتھیاروں کی جذبوں سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے
حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

 

Advertisements

اردو بلاگنگ کا عملی میدان

اردو ایک شیریں زبان ہے۔ ہر زبان کی طرح اس کی بھی اپنی ثقافت ہے۔ جب اردو لکھنے کا مرحلہ درپیش ہو تو ضروری ہے کہہ قبل ازیں اردو کا مطالعہ بھی کیا جائے۔ اسی کوشش کے دوران چند اردو کے بلاگز اور انٹرنیٹ پر موجود تحریریں نظر سے گزری سوچا آپ کو بھی تسکین ذوق کا موقع دیا جائے۔

  بلاگنگ کی معلومات کے لیے اردو بلاگنگ

 اردو شاعری کا ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ر

Best poetry resource in urdu

یختہ بھی ہے۔ ریختہ پر موجود شاعر انعام کبیر کا شعر اخبار کے کسی کالم میں پڑھنے کا اتفاق ہوا بھر پوری غزل ریختہ پر پڑھی۔

کبیرؔ جب سبھی دیواریں خستہ ہو جائیں

تو پھر مکان مرمت سے ٹوٹ جاتے ہیں

ایک اچھے ذوق کی نشاندہی کرتی ایک اور تحریر سب انسان ایک ہی طرح روتے ہیں۔ثروت ع ج

ان آنکھوں کی مستی میں

ایک اچھی تحریر ہوسکتی ہے اگر آپ کو فوٹوگرافی شکار اور اس جیسے موضوعات میں دلچسپی  ہے تو۔ کراچی والےکسی چوزے کو مرغا نہیں بننے دیتے کیسے؟ دلچسپ طریقہ اور وجہ بتا دی گئی۔

 اسی طرح آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن کے بانی نے کیا کہا ’’رن مریدی ایک کیفیت کانام ہے جو ہر شوہر پر طاری ہوتی ہے اور میں اس کیفیت میں مستقل  رہتا ہوں۔’’ مزید کیا کہنا رن مریدوں کے معتبر نمائندوں کا اس تحریر میں پڑھیے۔’’رن مریدی کے درجات’

ہم سب

 میں نے ایک اور اچھی ویب سائیٹ دیکھی جس پر بہتریں تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا۔  اس پر مختلف موضوعات پر مضامین تھے موجودہ صورتحال میں یہ مضمون دل کو چھو گیا

ماتم کرو اے اہلِ پاکستان! ماتم کرو!

امید ہے کہہ قارئین کو یہ تحریروں کا گلدستہ پسند آیا ہوگا۔

بد روحیں اور ہماری سوچ افریقی بچے یا بھوت Witchcraft and Society

ہماری زندگی میں بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر بہت سے لوگ یا تو بات ہی نہیں کرتے یا مجبورا ان کو مانتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ان لوگوں کا ہے جنہیں  عطائی ڈاکٹر تندرست قرار دیتے ہیں، حکیم بھی تین چار فیسیں وصول کرنے کے بعد کنارہ کر  

لیتے ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ایسی بہت سی راتیں گزر چکی ہیں جن میں دیر تلک یہ سوچ دماغ پر حاوی رہی کہہ متاثرہ شخص کس اذیت کا شکار ہے۔

 جانے کیوں ایک انجانا ڈر سوال کرنے سے بھی روک لیتا ہے۔ صورتحال اس وقت بہت خراب ہوتی ہے جب آپ کا کوئی عزیز ترین شخص آپکی 

bhootآنکھوں کے سامنے بولتا ہے اور آواز کسی اور کی ہو۔

اب کوئی کہے کہہ اس پر سایہ ہے۔ جن نکالنے والا بابا بنا سوچے اس کے جسم کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنا  دے۔ ایسا ہی کچھ ایک افریقی ملک میں ہو رہا ہے جہاں مذہبی پیشوا جن نکالنے اور جادو کا اثر ختم کرنے کے  بہانے معصوم بچوں اور بچیوں کو مختلف مظالم کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ ایک مسئلہ سہی مگر اس کی آڑ میں بچوں سے نہ صرف ان کا بچپن بلکہ  گھر چھین لینا، لڑکیوں کی عزت تار تار کرنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ جس پر انسانی حقوق پر کام کرنے والے افراد اور اداروں کو تشویش ہے۔پاکستان میں بھی ایسے بہت سے مظالم ہو تے ہیں۔  ۔اس پر فلم انڈسٹری اس چیز کو بڑھا رہی ہے۔الجزیرہ اور بہت سے عالمی اخباروں نے اس مسئلے کو بیان کیا ہے
ہمیں اس سلسلے کو روکنے کے لیے اگاہی کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہہ ہمارا میڈیا بھی اس مسئلے کو غلط رنگ دے کر انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہا ہو جیسے کہہ ڈراما سیریل بندش  جو اے۔آر۔وائے پر آیا۔  اس طرح کے موضوعات کو فلمانے سے پہلے ان کے اثرات کا جائزہ بہت ضروری ہے
۔
تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کی تربیت پر خصوصا توجہ دینا ہوگی۔

 

نایاب لکھاری اور نقش نگاری

کافی عرصہ تلاش کرتا رہا کہ یہ میرے سکول کی میز پر لکھنے والے کون لوگ ہیں۔
پھر مدرسہ کی کرسیوں کے بعد تحریریں دروازوں اور دیواروں پر بھی ملیں۔ ان تحریروں سے علم میں جو اضافہ ہوا وہ وہ اپنی جگہ مگر معصوم ذہن نجانے کس ان دیکھی دنیا کی جانب کھچنے لگتا۔

toilets-new-york

وقت اپنی رفتار سے چل رہا تھا کہ ان مفت کے خدمتگاروں کی خدمات کا سلسلہ کالج کے درودیوار پر بھی نظر آیا، ریل گاڑی کی نشستیں بھی ان کی کار گذاری کا ثبوت دیتی نظر آئیں۔

ان کے قلم کے کارنامے دیکھ کر ان کی پردہ کشائی کا انتظار رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ان لوگوں کی تلاش کا سلسلہ جاری رہا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

وقت نے کروٹ لی اور پھر فیس بک کا زمانہ آیا

یقین مانیں کہ مارک زکربرگ کی اس فیس بک نے اور کوئی فائدہ دیا یا نہیں میرا کام آسان کر دیا۔ میں انگشت بدنداں دیکھتا رہ گیا۔۔۔!
ہوبہو وہی تحریریں،وہی جملے اور وہی ذہنی سطح ۔
کمال ہے یار یہاں وہ لوگ اپنی شناخت کے ساتھ وہی جملے لکھتے ہوئے مل گئے۔
یہاں ان تحریریوں کو پسند کرنے کی سہولت نے یہ پول بھی کھول دیا لوگ ان باتوں سے تنگ نہیں ہوتے بلکہ حظ اٹھاتے ہیں۔ ان جملوں پر بحث معاشرے میں موجود ذہنی بیماریوں کی

تشخیص میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
مسکرا رہے ہو میری بات کا یقین نہیں آرہا۔۔۔؟ کھولو فیس بک اور یہ لوگ اب نایاب نہیں رہے بھرمار ہے ان کی۔۔۔۔۔۔

 

Faizabad Dharna aur awam

اس وقت بھی چند سیاسی جماعتیں  اپنی سیاست کو چمکانے کے چکر میں ہیں۔ فیض آباد کے دھرنے کو مذہبی جماعتposter کا دھرنا کہنے والے اسے عوامی موقف تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں؟؟

مذہبی جماعتیں اپنا موقف نہیں دے رہیں۔ حیراں ہوں کہ اب بھی نوازش شریف کی کرپشن پر بات کرنا ہی بہت اہم ہے؟

جماعت اسلامی حمایت میں ہے یا مخالف؟؟؟

اگر نواز شریف نظریے کا نام ہے تو پاکستان کیا ہے؟؟؟؟؟

کیا جب سارے کام فوج نے کرنے ہیں تو باقی ادارے کیا کر رہے

ہیں؟؟

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بند کرنا اور ملک کو بحران کی طرف لے جانا ہی واحد راستہ تھا؟؟

ان تمام سوالات کے جوابات قوم مانگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تفصیلات اور صورتحال

facebook and youtube are still blocked in pakistan

Continue reading Faizabad Dharna aur awam

کہیں مطلع نہیں ہوتا، کہیں مقطع نہیں ہوتا — Ibnay Muneeb

ایک نمکین غزل جس کا پہلا شعر اپنے ہی لئے ہے 🙂 کہیں مطلع نہیں ہوتا، کہیں مقطع نہیں ہوتا غزل کے نام پر صاحب یہاں کیا کیا نہیں ہوتا ہماری بے خودی ہے یہ، کہ تم آسیب ہو جاناں؟ وہاں مِلتا ہے پیمانہ، جہاں رکھا نہیں ہوتا ہزاروں غم ہیں دنیا […]

via کہیں مطلع نہیں ہوتا، کہیں مقطع نہیں ہوتا — Ibnay Muneeb

پل دو پل کو سامنے آو

Right-and-duties

*پل دو پل کو سامنے آؤ*
انتخابی اصلاحات پر بھی بات هوتی هے. جلسے ,جلوس اور کارنر میٹنگ بھی انعقاد پذیر هوتے هیں.کارکنوں کو متحد رکھنا بھی ضروری هے.کیا کسی بھی عوامی نمائنده جماعت کو همارے گھر کی فکر هے?میرے حلقے میں کتنی کرپشن هے,میری یونیں کونسل میں کیا هورها هے.
یار مجھے پانامه سے کیا غرض اگر میری یونیں کونسل میں پچھلے ستر سال سے سارے بے داغ دامن والے نمائندے هیں.اگر نهیں هیں تو ان کو انصاف کے کٹهرے میں کھڑا کرو,تب مانوں گا

کچھ دنوں میں شخصیات کارڈ بانٹیں گی. بینر لگیں گے. ڈھول بجے گا. الغرض سیاسی دنگل سجے گا اور جونهی انتخابی بین بجے گی تو هر وه سیاسی جاندار جو ناپید لگ رها تھا. جھومتا هوا سامنے آۓ گا.
آج اگر کسی کو اس “عوامی نمائندے” کا علم هے تو خدارا!
پتا بتا دو? یا اسے که دو
*پل دو پل کو “سامنے آؤ”*
میری یونین کونسل کے نمائندے کا دل کرتا هے که اسے بھی پارلیمنٹ کے پاس کوئی سیاسی دکان(ریڑھی) چلانے دی جاۓ.کیونکه یونین کونسل اس کے شایان شان جگه نهیں هے.
کیونکه یونین کونسل میں بیٹھ کر حفاظتی ٹیکے لگانے والے مکمل صحت بخش ماحول میں معصوم انسانوں کی خدمت میں مصروف هیں.
کیا تمام سرگرمیاں صرف اسلام آباد کے لیے هیں?یار کوئی انهیں بتاو کهه یونین کونسل میں بیٹھو تم یهاں کے نمائندے هو. اور حزب مخالف کا هر کارکن جیسے دفاعی مورچے پر نصب توپ هو . اسے فکر نهیں هے کهه میری یونین کونسل ,میرے حلقے میں تجاوزات بڑھ رهے هیں, بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان هے…..
بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے تو ٹھرے طاقتور اور وڈیرے ان سے تو سوال جان کا وبال.
چھوٹے چھوٹے کونسلر اپنی کونسلری کا فائده یوں اٹھا رهے هیں که:
کوئی مکان بنا کر بیچ رها هے.
کوئی کاروباری سرگرمیوں میں فائدے حاصل کر رها هے.
اور جنهوں نے نمازی اور خشیت الهی رکھنے والوں سے ووٹ وصول کیا تھا وه پھر سے مساجد میں خطبے دے رهے هیں. جنازے پڑھ رهے هیں اور کبھی کھبار کوئی مذمتی بیان داغ دیتے هیں.
ارے! پارلیمنٹ میں تمهاری جماعت کے نمائندے موجود هیں ناں?
تو بھائی وه اسلام آباد میں کام کر لیں گے بھروسه رکھو

You-can-stop-corruption-e1472832571329

تم اپنے حلقے,اپنی یونین کونسل میں کام کرو. یهاں پر اپوزیشن کا کردار نبھاو. یهاں کے تعلیمی اداروں کا دوره کرو,یهاں کی مساجد(بلاتفریق) کو دیکھو,اپنی یونین کونسل کی کاروباری اور سیاسی مصروفیات بناو.
پھر اسلام آباد والوں کی مدد کرنے چلے جانا. یار یهاں بھی پانی کی سکیمیں هیں ,ترقیاتی کام هو رهے هیں. کرپشن هونے کے بعد لکیر پیٹنے والو!
موجوده منصوبوں میں کرپشن کو کم از کم مشکل هی بنادو.
یار عوام کو ان کے حقوق سے آگاه هی کردو.
میرے گھر سے البراک کا کارنده جب کوڑا نهیں اٹھاتا تو مجھے کیا کرنا هے.
اگر الله نے تمهیں شعور و آگهی عطا کی هے تو اسے معاشرے کی فلاح پر لگاو.ان لوگوں کو حق شناس کرو جو فکر معاش کے نیچے دب کر سسک رهے هیں.
اٹھو!
للکارنا هے نا تو, اپنے محلے کی گندگی کو للکارو. تمهیں شکست دینی هے ناں! گلیوں میں چلتے پھرتے موت کے سوداگروں کو دو. جو منشیات کا زهر نئی نسل کی رگوں میں اتار رهے هیں.
پانامه پر سوچو ضرور آخر تم سیاسی شخص هو.
مگر مجھے میری یونین کونسل کو مثالی بنادو. میرے بچے تعلیم ,تفریح,صحت اور کھیل کود سے محروم هیں. اس کے لیے سوال اٹھادو.
*پل دو پل کو سامنے آو*
#انسانیت
#حق_شناس
#درد_نویس

(نوید شاکر )